Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ملکیت میں سونا اور زائد جہیز ہونے پر قربانی کا حکم

Fatwa no.
1721-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میری ملکیت میں سونے کا سیٹ ہے جو ایک تولے سے اوپر ہے اور سونے کی کچھ انگوٹھیاں بھی ہیں ، میری ابھی نئی شادی ہوئی ہے، تو جہیز کا کچھ سامان بھی ہے جو حاجت میں داخل نہیں جیسے برتن وغیرہ، مگر وہ سامان سسرال میں ہے جبکہ سونامیرے پاس ہے اور میں میکے میں ہوں، تو کیا مجھ پر قربانی واجب ہو گی جبکہ اس سونے پر ابھی سال نہیں گزرا اور میرے پاس کوئی رقم بھی موجود نہیں ہے؟

Answer (beginning)

ایک تولے سے او پر سونا آپ کے پاس ہے نیز سسرال میں رکھا آپ کا سامان بھی آپ ہی کی ملکیت ہے وہاں رکھے ہونے سے وہ آپ کی ملکیت سے خارج نہیں ہو گا لہذ ا سونے اور سسرال میں رکھے حاجت اصلیہ سے فارغ سامان دونوں کی مجموعی قیمت نصاب (52.5 تولہ چاندی کی رقم) سے زیادہ ہے چنانچہ پوچھی گئی صورت میں آپ پر قربانی واجب ہو گی۔ یادر ہے! اگر چہ آپ کے پاس کیش نہیں ہے یا سونے وغیرہ پر سال نہیں گزرا پھر بھی قربانی واجب ہے کہ یہ دونوں چیزیں قربانی واجب ہونے کے لیے ضروری نہیں اور نہ ہی اس میں رکاوٹ ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.