Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابینا کو مسجد لے جانے والا موجود ہو، تو کیا جماعت واجب ہوگی؟

Fatwa no.
1720-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نابینا شخص کو اگر کوئی مسجد لے جانے والا موجود ہو کیا اس پر مسجد کی جماعت واجب ہو گی ؟

Answer (beginning)

نابینا شخص پر جماعت واجب نہیں ہے اگر چہ کوئی مسجد پہنچانے والا میسر ہو، کہ بینائی کا نہ ہونا ان اعذار میں سے ہے کہ جن کے سبب جماعت واجب نہیں ہے۔ تاہم جب مسجد لے جانے والا میسر ہے یا خود کسی طرح چل کر مسجد پہنچے سکتا ہے بالخصوص وہ نابینا افراد جو بازاروں ، گلیوں وغیرہ میں چلتے پھیرتے ہیں تو ایسے نابینا اسلامی بھائی ممکنہ صورت میں مسجد میں آکر نمازیں باجماعت ادا کریں کہ جماعت سے نماز پڑھنے کے بہت فضائل ہیں بلکہ حدیث پاک میں یہاں تک ارشاد فرمایا: "لو يعلم هذا المتخلف عن الصلاة في الجماعة مالهذاالماشي إليهالأتاها،ولوحبوا علی یدیه و رجلیہ “ یعنی اگر پیچھے رہ جانے والے کو پتہ چل جائے کہ جماعت کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.