Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سفر میں ایک بیوی کے ساتھ دو راتیں گزاری، توکیا دوسری کے پاس بھی اتنی راتیں گزارنا ہوں گی؟
- Fatwa no.
- 1719-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو میکے چھوڑنے جائے جو کہ شرعی سفر بنتا ہو ، وہاں دورا تیں رکے ، تو کیا دوسری بیوی کو اس کے بدلے راتیں دینی لازم ہوں گی؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں دوسری بیوی کو اتنی راتیں دینا لازم نہیں۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”سفر کو جانے میں باری نہیں بلکہ شوہر کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ قرعہ ڈالے جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے لے جائے اور سفر سے واپسی کے بعد اور عورتوں کو یہ حق نہیں کہ اس کا مطالبہ کریں کہ جتنے دن سفر میں رہا۔ اتنے ہی اُتنے دنوں ان باقیوں کے پاس رہے بلکہ اب سے باری مقرر ہو گی۔ سفر سے مراد شرعی سفر ہے جس کا بیان نماز میں گزرا۔ عرف میں پردیس میں رہنے کو بھی سفر کہتے ہیں یہ مراد نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.