Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب نصاب پر قربانی کب واجب ہوتی ہے؟

Fatwa no.
1718-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا گھر کے ہر اس فرد پر قربانی واجب ہو گی جو کماتا ہے یا صرف صاحب نصاب پر ہو گی ؟ نیز اگر کسی عورت کے پاس تین تولہ سونا ہو اور اس کے پاس دس ہزار کی رقم بھی موجود ہو ، تو کیا وہ صاحب نصاب کہلائے گی ؟

Answer (beginning)

قربانی لازم ہونے کے لئے کمانا شرط نہیں ہے بلکہ صاحب نصاب ہو نا شرط ہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بالکل نہیں کماتے ان پر شرائط پائے جانے کی صورت میں قربانی لازم ہوتی ہے۔ جس شخص کی ملکیت میں بقر عید کے تین دنوں میں حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا سونا چاندی نصاب سے کم ہوں لیکن جس قدر ہیں، ان دونوں کو ملا کر یا سونے یا چاندی کو کسی دوسرے مال کے ساتھ ملاکر ، ان دونوں کی مجموعی قیمت عید الا نبی کے ایام میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر بنتی ہو تو اس پر شرائط کے مطابق قربانی واجب ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.