Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جب سب قسمت میں لکھا جا چکا تو ثواب و عذاب کیوں؟
- Fatwa no.
- 1717-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لوگ کہتے ہیں کہ جب بھی گناہ یا ثواب کا کام کیا جاتا ہے ، تو وہ ہماری قسمت میں پہلے ہی لکھا ہوتا ہے ، تو پھر اس کے مطابق ہم کو جنت یا دوزخ میں کیوں ڈالا جائے گا، ہم نے اگر کوئی گناہ کیا، تو یہ تو ہماری قسمت میں پہلے سے ہی لکھا تھا، اس لیے وہ گناہ ہم نے کر دیا، اس میں انسان کا کیا قصور ؟
Answer (beginning)
سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ ہر بھلائی ، بُرائی اللہ عز و جل نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدر فرمادی ہے ، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ لہذا یہ کہنا کہ تقدیر کی وجہ سے ہم نے غلط کیا تو اب گناہ نہیں ہو گا، یہ سوچ گمراہ کن ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.