Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو بیویاں ہوں ، تو دن کا کچھ حصہ بھی ان کو ٹائم دینا لازم ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
1715-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس شخص کی ڈیوٹی ڈے نائٹ کی ہو یعنی کچھ حصہ دن کا اور کچھ حصہ رات کا ڈیوٹی میں شامل ہو اور رات 11 بجے گھر آتا ہو ، اب کیا فقط رات کا باقی حصہ عورتوں میں تقسیم کرنالازم ہے یا دن کا کچھ حصہ دینا بھی لازم ہے یا دن اپنی مرضی سے جس کے پاس چاہے گزار سکتا ہے؟

Answer (beginning)

باری میں رات کا اعتبار ہے ، دن میں برابری ضروری نہیں ہے، لہذا دن کے اوقات میں ایک کے پاس زیادہ حصہ گزارا اور دوسری کے پاس کم ، تو اس میں حرج نہیں۔ ہاں ! جس رات جس بیوی کی باری ہو اس رات میں بلا ضرورت دوسری بیوی کے پاس نہیں جاسکتا، البتہ جب دوسری بیمار ہو تو پوچھنے رات میں بھی جاسکتا ہے اور مرض شدید ہو تو اس کے یہاں رہ بھی سکتا ہے جبکہ اس کے یہاں کوئی ایسانہ ہو ، جو اس کی تیمار داری کر سکے۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”باری میں رات کا اعتبار ہے لہذا ایک کی رات میں دوسری کے یہاں بلا ضرورت نہیں جا سکتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.