Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کی شادی کے جمع شدہ پیسوں پر قربانی کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1709-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے پاس 50 ہزار روپے ہیں لیکن یہ پیسہ بیٹی کی شادی اور جہیز کے لئے جوڑا ہے یہ پیسہ ماور بیع الاول میں خرچ ہو جائے گا اس سے پہلے ماوذی الحجہ میں پیسہ موجود ہو گا تو کیا اس شخص پر قربانی کرنا واجب ہو گی ؟
Answer (beginning)
اگر اس کے پاس ایام قربانی میں 50 ہزار روپے کے ساتھ حاجت اصلیہ سے زائد دیگر چیزیں موجو دہوں اور ان کی مجموعی مالیت نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اس شخص پر قربانی کرنالازم ہے ، آئندہ بیٹی کی شادی میں خرچ کی وجہ سے یہ رقم حاجت اصلیہ میں شمار نہیں ہو گی۔ ہاں اگر صرف یہی 50 ہزار روپے ہوں اس کے علاوہ حاجت اصلیہ سے زائد کچھ بھی نہ ہو یا ہو مگر سب کا مجموعہ نصاب تک نہ پہنچتا ہو تو اس صورت میں قربانی واجب نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.