Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنبی شخص کے دھلے ہوئے بازو سے پانی لگ کر بالٹی میں گر گیا، تو حکم

Fatwa no.
1707-Web

Question

گیا، توحکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس پر غسل فرض ہو اور صرف سیدھا بازو د ھو یا باقی جسم نہیں۔ اب اگر بازو سے لگ کر پانی بالٹی میں گیا تو بالٹی کا پانی مستعمل ہو گیا ؟

Answer (beginning)

جنبی شخص ( یعنی جس پر غسل فرض ہو ، اس) کے دھلے ہوئے عضو سے لگ کر جدا ہونے والا پانی مستعمل نہیں ہو گا ، بلکہ اگر بے دھلے ہاتھ سے لگ کر چند قطرے بالٹی میں گر جائیں تو بھی اگر چہ یہ قطرے مستعمل ہوں گے لیکن ان کی وجہ سے بالٹی کا پانی مستعمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ قطرے بالٹی میں موجود پانی کے مقابلے میں کم ہوں گے اور جب مستعمل اور غیر مستعمل پانی مل جائے اور مستعمل پانی کم ہو تو سب پانی غیر مستعمل کے حکم میں ہو تا ہے اور اس سے وضو یا غسل کیا جا سکتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.