Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کے لئے داڑھی رکھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1706-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اذان کے لئے داڑھی شرط نہیں ہے؟
Answer (beginning)
اذان دینے والے کا داڑھی والا ہو نا شرط نہیں ہے، کسی کی داڑھی ابھی تک نہ آئی ہو تو وہ اذان دے سکتا ہے جبکہ وہ سمجھدار ہو اور درست اذان دینے پر قادر ہو۔ البتہ داڑھی منڈانے والا یا ایک مشت سے کم کروانے والا شخص فاسق ہے اور فاسق کی اذان مکروہ ہے، اگر یہ اذان دے، تو اس کی اذان کا اعادہ کیا جائے یعنی دوبارہ کہی جائے۔ بہار شریعت میں ہے: ” فاسق اگر چہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے ، ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.