Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرحوم بھائی کی بیٹی کو والدہ کی وراثت سے حصہ دینا
- Fatwa no.
- 1705-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اس کی ایک بیٹی ہے، بھائی کے انتقال کے بعد ہماری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ہے، اب والدہ کی وراثت تقسیم کرنی ہے ، اس میں پہلے فوت ہو جانے والے بھائی کا شر عاحصہ تو نہیں بنتا، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہم تمام ور خا بخوشی بھائی کی بیٹی کو بھائی کی جگہ اس وراثت میں شریک کرلیں کہ اگر بھائی حیات ہوتے ، تو ان کا بھی حصہ ہو تا، تو کیا اس طرح غیر وارث کو بخوشی حصہ دینا درست ہے ؟
Answer (beginning)
تمام عاقل بالغ در ثناء اپنی خوشی در ضامندی سے اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کو بھی کچھ نہ کچھ دینا چاہیں تو یہ بالکل جائز بلکہ کار ثواب ہے ، کہ اس میں صلہ رحمی اور حسن سلوک پایا جاتا ہے، البتہ اگر کوئی نا بالغ وارث ہے تو وہ اپنے حصے میں سے انہیں نہیں دے سکتا۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: "وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا معْرُوفًا “ ترجمہ کنز الایمان: پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.