Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عشر کی رقم سے قبرستان کے لئے جگہ خریدنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1588-Web
- Issued
- 15 رمضان المبارک 1445ھ / 26 مارچ 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عشر کی رقم سے قبرستان کے لئے جگہ خرید سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
عشر کی رقم سے قبرستان کے لئے زمین خرید نا جائز نہیں کیونکہ عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے مصارف ہیں، جس طرح زکوۃ میں شرعی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے یو نہی عشر میں بھی ضروری ہے۔ البتہ قبرستان کے لئے زمین خریدنے کی واقعی حاجت ہو اور عشر کی رقم کے علاوہ کسی اور رقم کا انتظام نہ ہو سکتا ہو، تو اب اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ عشر کی رقم کسی شرعی فقیر کو دے کر اس کو مالک بنا دیا جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس رقم سے زمین خرید کر قبرستان کے لئے وقف کر دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.