Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایکسیڈنٹ میں فوت ہونے والے کی قبر کی تختی پر شہید لکھنا

Fatwa no.
1668-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کمانے کی غرض سے گھر سے نکلا اور راستے میں ایکسیڈنٹ ہو گیا اور سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ انتقال کر گیا، کیا اس کی قبر کی تختی پر شہید لکھو اسکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

روڈ ایکسیڈنٹ سے مرنے والا حکمی شہید ہے، شہید حکمی کو شہادت کا ثواب تو ملتا ہے مگر اس کا وہ مرتبہ نہیں جو شہید فقہی کا ہے، اسی طرح ان کے احکام و مرتبے میں فرق ہے اور شہید حکمی پر شہید کے فقہی احکام جاری نہیں ہوتے ، مثلاً شہید فقہی کو غسل نہیں دیا جا تا بلکہ خون سمیت دفن کیا جاتا ہے جبکہ شہید حکمی کو غسل دیا جاتا ہے، لہذا پو چھی گئی صورت میں شہید علمی کی قبر پر شہید نہیں لکھوا سکتے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.