Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر قانونی طریقہ سے باہر جا کر کمائی گئی رقم کا حکم
- Fatwa no.
- 1657-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص قانون کی مخالفت کر کے بیرونی ممالک پیسے کمانے کے لئے جاتا ہے اور اس پیسے سے اپنے اہل و عیال کی پرورش بھی کرتا ہے اور دینی کاموں میں خرچ بھی کرتا ہے ایسے شخص کے بارے میں عند الشرع کیا حکم ہے ؟ اس شخص کا ان پیسوں سے اہل وعیال کی پرورش کرنا اور دینی کاموں میں خرچ کرنا درست ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک جانا شرعا ممنوع ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو ذلت ورسوائی پر پیش کرنا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ہے کہ پکڑے جانے کی صورت میں شدید ذلت ورسوائی اٹھانی پڑتی ہے بلکہ بعض اوقات ایسے لوگوں پر دوسرے ملک کی فوج فائرنگ بھی کر دیتی ہے جس سے مرنے والوں کی اطلاعات اخبارات وغیرہ میں آتی رہتی ہیں اور شریعت مطہرہ نے اس کام سے منع فرمایا ہے جو ہلاکت اور ذلت ورسوائی کا باعث ہو۔ جہاں تک کمائی کا تعلق ہے تو جو کام کر رہا ہے اگر وہ فی نفسہ جائز ہے ، تو اس کی کمائی بھی جائز اور اگر یہ کام فی نفسہ حرام ہے، تو اس کی کمائی بھی حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.