Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کی دوسری اذان کے جواب کا حکم؟

Fatwa no.
1656-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جمعہ کی دوسری اذان کا جواب امام اور مقتدی دونوں دے سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer (beginning)

جمعہ کی دوسری اذان کا جواب مقتدی حضرات کو نہیں دینا چاہئے ، خاموش رہنا چاہئے کہ یہی اولی ہے ، ہاں ! خطیب صاحب اذان کا جواب دے سکتے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: ”سوال: جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلمات اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہئے یا نہیں ؟ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک پر اذان میں انگوٹھا چو منا یا خطبہ میں آں حضرت کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہئے یا نہیں ؟ جواب: اذان خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دعا میں امام وصاحبین رضی اللہ تعالی عنہم کا اختلاف ہے، بچنا اولی اور کریں تو حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.