Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنے منسوب کے چاچا کو عشر ادا کرنا

Fatwa no.
1645-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے منسوب کے چاچو ہیں جو بہت غریب ہیں بمشکل تین وقت کے کھانے کے لیے کم پاتے ہیں، آنکھوں کا آپریشن ہوا ہے، پھر بھی نظر کم ہی آتا ہے کیا ان کو عشر دے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

اگر وہ شرعی فقیر ہے یعنی ان کے پاس حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر کوئی مال نہیں اور وہ نسب ہاشمی بھی نہیں تو انہیں عشر دینا، جائز ہے۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: " مصرف الزكوة والعشر--- هو فقیر یعنی زکوۃ اور عشر کا مستحق فقیر ہے وو اس کے تحت رد المحتار میں ہے: "وهو مصرف ايضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة يعني فقير صدقہ فطر، کفارے ، نذر اور دیگر صدقات واجہ کا بھی مستحق ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.