Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اس نیت سے رقم جمع کرنا کہ مشکل وقت میں کام آئے گی

Fatwa no.
1643-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں اپنی سیلری سے ہر ماہ کچھ رقم بچا کر جمع کرتا ہوں، جمع اس نیت سے کرتا ہوں کہ خدانخواستہ کوئی مشکل وقت آگیا، تو اس میں یہ کام آجائیں گے ، میرے ایک ماموں جو دینی لحاظ سے متقی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ رقم جمع نہ کیا کرو، بس اللہ پر بھروسہ رکھو، کچھ نہیں ہو گا، ورنہ یہ پیسہ بھی ضائع ہو جائے گا اور مصیبت بھی دور نہیں ہو گی۔ اس صورت حال میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

جہاں شرعاً، عرفاً، عقلاً یامر و تأخرچ کرناضروری ہے وہاں تو خرچ کرناضروری ہے یونہی مال کے جو ضروری حقوق ہیں مثلاً صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ فطرہ، قربانی وغیرہ کو ادا کرنا بھی ضروری ہے ، اگر یہ سارے معاملات انجام دیتے ہوئے حلال طریقہ سے کما کر مال جمع کیا جائے تو شرعا گناہ نہیں۔ بلکہ اچھی نیتوں کے ساتھ جمع کرے تو کارِ ثواب بھی ہے، مثلاً: اس سے صدقہ و خیرات کروں گا، نیکی دعوت عام کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے عطیات میں حصہ ملا تار ہوں گا، اس لئے جمع کر رہا ہوں کہ مشکل وقت آنے کی صورت میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، اس لئے جمع کر رہا ہوں کہ اہل و عیال کی تربیت احسن انداز میں کر سکوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.