Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانی پر قادر نہ ہو، تو اعضائے وضو پر مسح کرنے سے وضو ہوگا یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 1641-Web
Question
نہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص غسل یا وضو کے لئے کسی بیماری کی وجہ سے اعضائے وضو پر پانی بہانے پر قادر نہ ہو، تو اس پر مسح کرنا وضو کیلئے کافی ہو گا یا اسے تیمم کرنے کا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
جس شخص کے جسم یا اعضائے وضو کے اکثر حصے پر کسی مرض کی وجہ سے پانی نقصان کرتا ہو تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ تیم کرے اس کے لیے مسح کا حکم نہیں اور اگر اکثر سے کم حصہ وضو یا غسل کے قابل نہیں تو اب حکم یہ ہے کہ وہ اگر متاثرہ حصے پر مسح کر سکتا ہے تو اس حصے پر مسح کرے اور باقی حصے کو دھولے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ” اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے۔۔۔ تو ضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسیح کرلے اور اگر وہاں بھی مسیح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایک دھار بہادینی مضر نہ ہو گی تو وہاں اس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہو تو دو ایا پٹی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.