Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ کی راہ میں صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے، یہ بڑھنا دنیا میں ہوگا یا آخرت میں ؟

Fatwa no.
1640-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اللہ کی راہ میں صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے، یہ حکم آخرت کے اجر کے لحاظ سے ہے یاد نیا میں بھی مال میں اضافہ ہو گا؟ اگر کوئی شخص سارا مال ہی اللہ کی راہ میں دے اور اپنے پاس کچھ نہ چھوڑے تو اس کا مال کیسے بڑھے گا؟

Answer (beginning)

یہ حکم دنیا و آخرت دونوں کے اعتبار سے ہے کہ صدقہ کرنے والے کے مال میں دنیا میں برکت ہوتی ہے اور آخرت میں اس کا اجر و ثواب بڑھتا ہے۔ کسی نے سارا مال اللہ پاک کی راہ میں خرچ کر دیا تو ممکن ہے کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر کسی بھی جائز طریقے مثلاً : ہبہ ، وراثت وغیرہ کے ذریعہ مزید مال مل جائے اور بشرط اخلاص آخرت میں اجر و ثواب، تو ملنا ہی ہے۔ البتہ مال خرچ کرنے کے حوالے سے عام افراد کو تعلیم یہ ہے کہ وہ اپنے مال سے بعض صدقہ کریں تاکہ اپنی اور اپنے اہل عیال و غیرہ کی ضروریات احسن انداز میں پوری ہو سکیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.