Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مالِ تجارت میں تیس بھینسیں ہوں، تو کتنی زکوٰۃ ہوگی؟

Fatwa no.
1631-Web
Issued
19 رمضان المبارک 1445ھ / 29 مارچ 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے پاس مالِ تجارت میں تیں بھینسیں ہوں، یہ بھینسیں بیچنے کے لئے خریدی ہیں، تو کیا ان پر ز کو ہو گی اور کتنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

جب وہ بھینسیں تجارت کے لئے ہیں یعنی بیچنے کی نیت سے خریدی ہیں، تو شرائط زکوۃ کی موجودگی میں ان بھینسوں کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہو گی۔ در مختار میں ہے: ”ولوللتجارة ففيها زكاة التجارة“ یعنی جانور اگر تجارت کے لیے رکھے ہوں، تو ان میں مال تجارت کی زکوۃ لازم ہو گی۔ (الدرالمختار متن ردالمحتار، جلد 3، صفحہ234، مطبوعہ کوئٹہ) تجارت کے لیے رکھے گئے جانوروں کی زکوۃ کا حکم بیان کرتے ہوئے بہار شریعت میں ہے: ”اگر تجارت کا جانور چرائی پر ہے، تو یہ بھی سائمہ نہیں، بلکہ اس کی زکوۃ قیمت لگا کر ادا کی جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.