Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت پر غسل فرض ہو، تو وہ کب تک غسل کر کے روزے کی نیت کرے ؟

Fatwa no.
1630-Web
Issued
21 رمضان المبارک 1445ھ / 01 اپریل 2024 ء

Question

کرے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی اسلامی بہن پر غسل فرض ہو جائے اور وہ سحری کے وقت نہ نہا سکے ، تو دن میں کس وقت تک وہ غسل کر کے روزے کی نیت کر سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

روزے کی نیت کرنے کے لیے غسل ہو ناضروری نہیں بلکہ حالت جنابت میں بھی روزے کی نیت کرنا اور سحری کرنا جائز ہے اور اس صورت میں روزہ ادا ہو جائے گا۔ بہر حال اگر رات میں روزے کی نیت نہیں کی ، تو ضحوہ کبری (زوال) سے پہلے پہلے نیت کرنا ضروری ہے اگر زوال سے پہلے نیت نہیں کی، تو روزہ ادا نہیں ہو گا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الا اهانت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.