Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نامحرم عورت کے سر پر ہاتھ پھیرنا
- Fatwa no.
- 1627-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک غیر محرم مرد غیر محرم عورت کے سر پر ہاتھ پھیرے، جس طرح کئی علاقوں میں رواج ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے پر رشتے میں جو بڑا ہے وہ عورتوں کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیر تا ہے، کیا یہ عمل جائز ہے ؟ اگر عورت نے سر پر دوپٹہ لیا ہو ، پھر سر پر ہاتھ رکھنا کیسا ہے ؟ عورت اگر خود بیچ رہی ہو ، لیکن پھر بھی کوئی غیر محرم مر درشتے دار سر پر ہاتھ رکھ دے، تو گنہگار کون ہو گا؟
Answer (beginning)
جیٹھ ، بہنوئی یا کسی بھی نا محرم مرد کو غیر محرم بالغہ عورت کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی ہر گز ہر گز اجازت نہیں، بلکہ اگر نا محرم بالغہ عورت کے سر پر بلا حائل ہاتھ پھیرا، تو یہ فعل ناجائز و گناہ ہے ، یو نہی اگر بالغہ عورت نے باریک دوپٹہ اوڑھا ہو اہو اور جسم کی گرمی محسوس ہوتی ہو ، تب بھی یہ فعل نا جائز و گناہ ہے۔ نیز اگر عورت بے پر وہ ہو، تو بے پردگی کا گناہ بھی ہو گا۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ اس طرح کے گناہوں بھرے رواج کو ختم کریں اور نامحرم مر دو عورت آپس میں پر دے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.