Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سالگرہ کے کیک کی کریم چہرے پر مَلنے کا حکم

Fatwa no.
1626-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی سالگرہ ہو ، تو کیک کاٹنے کے بعد کیک کی کریم اس کے چہرے پر لگائی جاتی ہے، تو کیا یہ مثلہ ہے ؟ اس طرح کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

چہرے پر اس انداز سے کریم لگانا کہ جس سے چہرہ بگڑ جائے ، مثلہ میں داخل ہے، اور عموما یہ کریم ضائع ہو جاتی ہے تو تضیع مال کی وجہ سے بھی ناجائز و حرام فعل ہے لہذا ان چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ” منہ کیچڑ سے سان صورت بگاڑنا ہے اور صورت بگاڑ نا مثلہ اور مسئلہ حرام ہے ، یہاں تک کہ جہاد میں حربی کافروں کو بھی مثلہ کرنا صحیح حدیث میں منع فرمایا، جن کے قتل کا حکم فرمایا اُن کے بھی مثلہ کی اجازت نہیں دی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.