Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھائی کوعلاج کے لئے ایڈوانس میں عشر دینا

Fatwa no.
1618-Web
Issued
17 رمضان المبارک 1445ھ / 28 مارچ2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے بھائی کو علاج کے لئے رقم درکار تھی، میرا بھائی شرعی فقیر ہے، میں نے اس کو ایڈوانس عشر کی مد میں کچھ رقم دے دی، جبکہ ابھی فصل تیار نہیں ہوئی، کیا میں اس طرح عشر کی نیت سے اس کو رقم دے سکتا ہوں؟ نیز کیا اس کو یہ بتانا ضروری ہو گا کہ یہ عشر کی رقم ہے یا صرف نیت کافی ہو گی ؟

Answer (beginning)

اگر آپ کا بھائی سید یا ہاشمی نہیں ہے اور شرعی فقیر ہے اور آپ عشر کی نیت سے اسے رقم دے دیتے ہیں تو آپ کا عشر ادا ہو جائے گا کیونکہ زکوۃ کی طرح عشر بھی ایڈوانس دیا جاسکتا ہے بشر طیکہ کاشت کاری کرنے کے بعد دیا جائے اگر چہ ابھی فصل تیار نہ ہوئی ہو۔ ہاں اگر کوئی کاشت کاری سے پہلے ہی عشر ادا کر دیا تو ایڈوانس عشر ادا نہیں ہو گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”فلو عجل عشر أرضه قبل الزرع لا يجوز، ولوعجل بعد الزراعة بعد النبات فإنه يجوز “یعنی اگر کسی نے کھیتی بونے سے پہلے ہی اپنی کھیتی کا عشر ادا کر دیا تو یہ جائز نہیں ( یعنی اس کا عشر ادا نہیں ہو گا)، اور اگر فصل بونے اور اس کے ظاہر ہونے کے بعد ادا کیا تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.