Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نصاب پر سال گزرا لیکن تجارت کی نیت سے لئے گئے پلاٹ پر سال نہیں گزرا تو زکوٰۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1617-Web
- Issued
- 03 رمضان المبارک 1445ھ / 14 مارچ 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) میرے بھائی نے چار ماہ پہلے ایک پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدا، تو کیاز کوۃ فرض ہونے کے لیے اس پر سال گزرنا ضروری ہے، جبکہ بھائی پہلے سے صاحب نصاب ہے کہ اس نے کمیٹیوں میں رقم جمع کروائی ہوئی ہے اور کاروبار میں بھی ر قم و مال ہے، تو کیا پلاٹ پر سال گزرنا ضروری ہے اور اگر ز کوۃ فرض ہو گی، تو موجودہ قیمت کے حساب سے یا خریداری کے وقت کی قیمت کے اعتبار سے ؟
Answer (beginning)
ز کو ۃ لازم ہونے کے لئے نصاب پر سال گزرنا ضروری ہے، اگر آپ کے بھائی پہلے سے صاحب نصاب ہیں، تو تجارت کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر الگ سے سال گزر ناضروری نہیں ہو گا بلکہ جس دن نصاب کا سال پورا ہو گا اس دن دیگر اموال کے ساتھ اس پلاٹ پر بھی زکوۃ نکالیں گے۔ نیز پلاٹ کی زکوۃ ادا کرنے میں قیمت خرید کا اعتبار نہیں بلکہ نصاب کا سال پورا ہونے کے دن جو مالیت ہو گی اس کا اعتبار ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.