Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجدِ نبوی میں کوئی چیز ملے مگر اس کے مالک کا علم نہ ہو، تو حکم
- Fatwa no.
- 1615-Web
- Issued
- 11 رمضان المبارک 1445ھ /14 مارچ2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد نبوی کی صف پر کوئی چیز مثلاً عطر یا تسبیح ملے تو کیا وہ رکھ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
مسجد نبوی شریف یا کسی بھی جگہ پڑا ہو امال کہیں ملے، جس کے مالک کا علم نہ ہو تو اسے لفظہ کہتے ہیں۔ اس کو اٹھانے نہ اٹھانے کے متعلق درج ذیل تفصیل ہے: اگر یہ خیال ہو کہ میں اس کے مالک کو تلاش کر کے دے دوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہو کہ شاید میں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظن غالب ہو کہ مالک کو نہ دوں گا تو اٹھانا، ناجائز ہے۔ اور اپنے لیے اٹھانا حرام ہے اور اس صورت میں غصب کے حکم میں ہے۔ اور اگر یہ ظن غالب ہو کہ میں نہ اٹھاؤں گا تو یہ چیز ضائع ہو جائے گی تو اٹھا لینا ضرور ہے لیکن اگر نہ اٹھائی اور ضائع ہو گئی تو اس پر کوئی تاوان نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.