Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فطرہ کی رقم حیلہ کئے بغیر قاری صاحب کی تنخواہ میں دینا

Fatwa no.
1612-Web
Issued
14 رمضان المبارک 1445ھ / 25 مارچ 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کمیٹی والے جو فطرانہ اکٹھا کرتے ہیں وہ بغیر حیلہ شرعی کے قاری صاحب کو تنخواہ دیتے ہیں ، قاری صاحب عباسی ہیں، ان کو اس طرح تنخواہ دینے کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت کے مطابق شرعی حیلہ کئے بغیر کمیٹی والوں کا تنخواہ کی مد میں فطرے کی رقم دینا شر عا درست نہیں ہے ، اس طرح کرنے سے جنہوں نے فطرہ دیا تھا، ان کا فطرہ بھی ادا نہیں ہو گا۔ قوانین شریعت کی رو سے صدقات واجبہ زکوۃ، صدقہ فطر و و غیرہ کی رقم سے تنخواہ ادا نہیں کی جاسکتی چاہے مدرس، ملازم عباسی یا سید ہو یا نہ ہو۔ اگر کمیٹی والوں نے حیلہ کئے بغیر تنخواہ میں فطرہ کی رقم دی، تو ان پر تو بہ کرنے کے ساتھ ساتھ فطرہ دینے والوں کو تاوان بھی دینا ہو گا اور انہیں بتانا ہو گا کہ ان کا فطرہ ادا نہیں ہوا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.