Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اجرت طے کئے بغیر کپڑے سلوائے تو پہننے کا حکم
- Fatwa no.
- 1609-Web
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1445ھ / 27 مارچ 2024 ء
Question
زینب کی امی زینب اور بہنوں کے لیے کپڑے سلواتی ہیں، اب زینب کو اندازہ ہوا کہ سلوانے کے لئے جب کپڑے دیئے جاتے ہیں، تو اس وقت اجرت طے نہیں ہوتی کیونکہ کپڑے سلنے کے بعد زینب کی والد ہ در زن سے پوچھ رہی تھی کہ کتنے پیسے ہو گئے ، اب زینب کو یہ معلوم ہو گیا، تو اس صورت میں جو کپڑے زینب کے لئے بنائے گئے ہیں ، وہ زینب استعمال کر سکتی ہے یا نہیں ؟ جبکہ زینب کو کنفرم معلوم نہیں کہ اس کے کپڑوں کی اجرت پہلے طے ہوئی تھی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
زینب کے لیے یہ کپڑے پہنا جائز ہے۔ البتہ اسے چاہیے کہ والدہ کو مسئلہ سمجھا دے کہ شرعی اصولوں کے مطابق اجارے پر کام کروانے سے پہلے اجرت طے کرناضروری ہے ، ہاں اگر عرف میں کسی کام کی اجرت مقرر ہو تو ہر بار با قاعدہ طے کر ناضروری نہیں، چونکہ مارکیٹ پریکٹس کے مطابق عام طور پر سوٹ کی سلائی فکس ہوتی ہے لہذا اگر سلائی کا ریٹ دونوں کو معلوم ہے، تو ہر بار طے کرناضروری نہیں، پھر بھی اگر سلائی کے بعد جھگڑے کی کیفیت بنتی ہے، تو پہلے سے ایک ریٹ فکس کرنا چاہیے تاکہ بعد میں اس طرح کے مسائل نہ ہوں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.