Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بہن یا والدہ کا اعتکاف والے کمرے میں معتکفہ کے ساتھ سونا کیسا؟

Fatwa no.
1608-Web
Issued
15 رمضان المبارک 1445ھ / 26 مارچ 2024ء

Question

کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عورت کے ساتھ اعتکاف والے کمرے میں اس کی بہن یا والدہ سو سکتی ہیں یا نہیں جبکہ وہ آپس میں باتیں نہ کریں؟ نیز یہ بھی بتادیجئے کہ دورانِ اعتکاف کس کس سے پر دہ کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

مسجد بیت میں اعتکاف کرتے ہوئے عورت کے ساتھ اس کی والدہ یا بہن وغیرہ کے سونے یا کوئی جائز بات کرنے میں شرعا حرج نہیں، نیز اعتکاف کے دوران عورت کے لیے پردے کے وہی احکام ہیں جو عام حالات میں ہوتے ہیں، یعنی جن سے عام حالات میں پردے کا حکم ہے اعتکاف کے دوران بھی ان سے پر وہ کیا جائے گا، اور جن سے عام حالات میں پردے کا حکم نہیں ان سے اعتکاف کے دوران بھی پردہ کرنا لازم نہیں۔ تاہم اعتکاف میں یکسوئی حاصل کرنے کے لیے محارم وغیرہ سے بھی بلا ضرورت بات چیت، فضول گوئی، جنسی مذاق سے گریز کرنا چاہیے تا کہ اعتکاف کا مقصد اور برکتیں حاصل ہو سکیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.