Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قیامت سے چالیس سال پہلے بچوں کی ولادت ہونا بند ہو جائے گی؟
- Fatwa no.
- 1601-Web
- Issued
- 08 رمضان المبارک 1445ھ / 19 مارچ 2024 ء
Question
گی دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے کسی روایت میں پڑھا تھا کہ قیامت سے چالیس سال پہلے ولادت بند ہو جائے گی۔ اگر یہ بات درست ہے ، تو پھر اس آیت: "يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا “ کا کیا مطلب ہو گا جس میں حمل والی کے حمل ساقط ہونے کا بیان ہے ؟
Answer (beginning)
مذکورہ آیت سے یا تو قیامت کا دن مراد ہے یا پھر قیامت سے پہلے مغرب سے سورج نکلنے کا وقت۔ اگر قیامت کا دن مراد لیا جائے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت ایسی دہشت والی شے ہے کہ اگر اس وقت کوئی حاملہ عورت ہوتی، تو قیامت کی دہشت کی وجہ سے حمل ساقط کر دیتی، اور اگر کوئی دودھ پلانے والی عورت ہوتی، تو اس کی دہشت کے باعث اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جاتی۔ اور اگر اس سے مراد قیامت سے پہلے والا ز لزلہ مراد ہو، تو کسی قسم کی تاویل کی حاجت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.