Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتے میں دانتوں سے خون نکلتا ہو، تو روزے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1600-Web
- Issued
- 11 رمضان المبارک 1445ھ / 22 مارچ 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے دانت خراب ہونے کی وجہ سے ان سے وقفے وقفے سے خون نکلتا رہتا ہے اور سوتے میں حلق میں جاتا ہے اسکی کرواہٹ سو کر اٹھنے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ اس صورت میں روزے کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر تھا یا کم تھا، مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا اور اگر خون تھوک سے کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا تو روزہ نہ ٹوٹا۔ لہذا اگر آپ کے دانتوں سے خون نکلا لیکن حلق سے اتر نا معلوم نہیں اور حلق میں اس کا ذائقہ بھی محسوس نہ ہوا تو اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن اگر خون کا حلق سے اتر نا معلوم ہو یا حلق میں ذائقہ محسوس ہو جیسا کہ سوال میں ہے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ گیا اگر چہ سوتے میں ایسا ہوا۔ رمضان کے بعد اس کی قضا فرض ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.