Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنتِ غیر مؤکدہ کو سنت مؤکدہ کے طریقہ پر پڑھنا
- Fatwa no.
- 1489-Web
- Issued
- 28 رمضان المبارک 1445ھ / 108اپریل 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص لا علمی کی بنا پر سنت غیر مؤکدہ کو سنت مؤکدہ کے طریقے پر پڑھتارہا ہو اور چار رکعت والی نفل نماز بھی اسی طرح پڑھتار ہا ہو تو اس پر کیا حکم ہے؟ کیا اس کی یہ نمازیں ادا ہو گئیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
چار رکعت والی سنت غیر مؤکدہ یا نفل کی تیسری رکعت کے شروع میں شار و تعوذ پڑھنا مستحب ہے۔ یونہی قعدہ اولی میں التحیات کے بعد درود پاک اور دعا پڑھنا بھی لازم نہیں بلکہ بہتر ہے، لہذا انھیں بھولے سے یالا علمی میں چھوڑتے رہنے والا شخص گناہ گار نہیں ہو گا، اور انہیں چھوڑنے کی وجہ سے نماز فاسد یا واجب الاعادہ بھی نہیں ہو گی۔ سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کی تیسری رکعت میں ثنا پڑھنے کا حکم بیان کرتے ہوئے حلیہ معلی میں ہے: " فقام من القعدة الاولى الى الركعة الثالثة فانه يستحب له ان يبتدى الثالثة بالاستفتاح والتعوذ “ يعنى جب نمازی سنت غیر مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو ، تو اس کے لیے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.