Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کا سامان ( کپڑے یا چشمہ وغیرہ) ورثا کی اجازت سے کسی کو دینا
- Fatwa no.
- 1488-Web
- Issued
- 23 شعبان المعظم 1445ھ / 05 مارچ 2024ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہیں؟ میت کا سامان مثلاً کپڑے یا چشمہ و غیرہ، اگر وارثین اجازت دے دیں کہ یہ کسی کو دے دیا جائے ، تو کیا دے سکتے
Answer (beginning)
میت کا معمولی سامان بھی شرعاتر کہ ہے اور اور شاہ کی ملکیت ہے لہذا اگر تمام در ثناء عاقل و بالغ ہیں اور سب اس بات پر رضامند ہیں کہ ترکہ کی مخصوص چیز کسی کو دے دی جائے تو یہ جائز ہے اور اگر کوئی وارث عاقل و بالغ نہیں تو پھر اس کے حصے سے کوئی چیز کسی کو ہبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہاں عاقل و بالغ در ثاء اپنے حصے میں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftaAhlesunnat Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.