Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کو جہیز میں دینے کی نیت سے خریدے گئے مکان پر زکوٰۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1575-Web
- Issued
- 11 رمضان المبارک 1445ھ / 22 مارچ 2024 ء
Question
ایک مکان اس نیت سے خریدا کہ بیٹی کو جہیز میں دیں گے ، پھر نیت بدل گئی اور یہ نیت ہو گئی کہ اس کو بیچ کر دوسری جگہ مکان لیں گے ، لیکن ابھی تک اس مکان کو بیچا نہیں بلکہ کرائے پر دیا ہوا ہے ، اس مکان پر زکوۃ ہو گی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
اس مکان پر زکوۃ نہیں ہو گی، اس لیے کہ مکان پر زکوۃ اس صورت میں بنتی ہے جبکہ اسے بیچنے کے ارادے سے خریدا جائے۔ چونکہ یہ بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے خریدا گیا تھا بچنے کی نیت نہیں تھی، لہذا یہ مالِ تجارت میں داخل نہیں ہے اس لیے اس مکان پر کوئی زکوۃ نہیں۔ بلکہ اگر بالفرض اس پلاٹ کو آپ تجارتی مقصد سے خریدتے ، تب بھی چونکہ آپ نے اسے کرائے پر دے دیا، اس لیے اس مکان پر پھر بھی زکوۃ نہیں بنتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.