Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنے نسب کو یاد رکھنا اور لکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1572-Web
- Issued
- 25 شوال المکرم 1445ھ / 04 مئی 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا آج کے دور میں بھی اپنے نسب کو یادرکھ سکتے ہیں، لکھ کر رکھ سکتے ہیں ؟ اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں ؟
Answer (beginning)
اپنے نسب کو یادرکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں، نیز جہاں تک نسب یاد ہو ، وہاں تک نسب لکھ کر رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ترمذی شریف میں ہے: ” عن ابی ھریرۃ رضی الله عنه عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال تعلموا من انسابكم ما تصلون به ارحامکم“ ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے نسب یاد رکھو ، جس سے اپنے رشتے جوڑو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.