Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح سے پہلے بھول کر وتر کی نیت کر لی، تو کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1568-Web
- Issued
- 09 رمضان المبارک 1445ھ / 20 مارچ2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) اگر عشاء کی نماز میں دو سنتیں پڑھنے کے بعد بھولے سے تین رکعات وتر کی نیت کرلی، تو کیا کرنا چاہیے ، نیت توڑ کر پہلے تراویح پڑھے یا وتر جاری رکھے اور بعد میں تراویح پڑھے ؟
Answer (beginning)
وتروں کے بعد تراویح پڑھی جاسکتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت کے مطابق و تر مکمل کر کے پھر تراویح پڑھی جائے بہارِ شریعت تراویح کے بیان میں ہے: ”اس کا وقت فرض عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی۔ “ (بہارِ شریعت، حصہ 4، صفحہ 689، مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم عاملات اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.