Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرہ کو مہر مقرر کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1567-Web
- Issued
- 10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا لڑکی اپنے نکاح کا یہ حق مہر رکھو اسکتی ہے کہ شادی کے بعد شوہر اسے عمرہ کروادے گا؟
Answer (beginning)
عمرہ کروانا مہر میں نہیں رکھوا سکتے۔ اگر رکھوالیا، تو مہر مثل واجب ہو گا۔ مہر مثل سے مراد عورت کے والد کی طرف سے خاندان کی اس جیسی عورتوں کا جو مہر مقرر ہوا، مثلاً: اس کی بہن، پھوپی ، چا کی بیٹی وغیرہ کا مہر اس عورت کے لئے مہر مثل ہے۔ بہار شریعت میں ہے : " جو چیز مال متقوم نہیں وہ مہر نہیں ہو سکتی اور مہر مثل واجب ہو گا، مثلاً مہر یہ ٹھہرا کہ آزاد شوہر عورت کی سال بھر تک خدمت کرے گا یا یہ کہ اسے قرآن مجید یا علم دین پڑھا دے گا یا حج و عمرہ کرادے گا یا مسلمان مرد کا نکاح مسلمان عورت سے ہوا اور مہر میں خون یا شراب یا خنزیر کا ذکر آیا یا یہ کہ شوہر اپنی پہلی بی بی کو طلاق دے دے تو ان سب صورتوں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.