Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بار بار احتلام ہو، تو غسل کا حکم

Fatwa no.
1566-Web
Issued
10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (1) میں جب بھی سوتا ہوں دن میں ہو یا رات میں، دن میں اگر دوبار بھی سو جاؤں تو مجھے احتلام ہو جاتا ہے ایسی صورت میں ہر بار غسل کرنا فرض ہو گا مجھے پر ؟ (2) اور روز جب میں صبح اٹھتا ہوں تو انڈروئیر پر کچھ نشانات ملتے ہیں سفید پانی کا گیہوں کے دانے کے برابر اس میں بھی مجھے غسل کرنا ہو گا یا صرف انڈروئیر تبدیل کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

بہار شریعت میں ہے: ” اختلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس ترمی کے منی یابندی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غسل واجب ہے اگر چہ خواب یاد نہ ہو اور اگر یقین ہے کہ یہ نہ منی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا ودی یا کچھ اور ہے تو اگر چہ اختلام یاد ہو اور لذت انزال خیال میں ہو غسل واجب نہیں اور اگر منی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اختلام ہونا یاد نہیں تو غسل نہیں ورنہ ہے۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.