Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس کو فطرہ دیا جائے اسے بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
1555-Web
Issued
10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس کو فطرہ دینا ہے، کیا اس کو بتاناضروری ہے کہ یہ فطرے کی رقم ہے ؟ اگر کوئی شخص اس رقم کا راشن خرید کر دے دے اور یہ نہ بتائے کہ یہ راشن فطرے کی رقم کا ہے تو کیا فطرانہ ادا ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

جس طرح زکوۃ ادا کرتے وقت شرعی فقیر مستحق زکوۃ کو یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ رقم یا مال زکوۃ کی مد میں دے رہاہوں یونہی فطرہ ادا کرتے وقت بھی بتانا ضروری نہیں، دل میں نیت ہو نا کافی ہے۔ لہذ اند کورہ صورت میں جس شرعی فقیر کو فطرہ ادا کیا جارہا ہے ، فطرہ ادا کرتے ہوئے اس کو بتانا ضروری نہیں، بلکہ دل میں فطرہ کی نیت کرتے ہوئے اس کو ادا ئیگی کرنے سے فطرہ ادا ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.