Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض کی حالت میں نماز پڑھ لی، تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 1532-Web
- Issued
- 23 شعبان المعظم 1445ھ / 05 مارچ 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی عورت نے لاعلمی کی بنا پر حیض کی حالت میں نماز پڑھ لی تو کیا اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کوئی مالی کفارہ لازم نہیں البتہ تو بہ لازم ہے کیونکہ حیض کی حالت میں نماز پڑھنانا جائز و حرام ہے اور دار الاسلام میں شرعی مسائل سے لا علم ہونا کوئی شرعی عذر نہیں ہے، لہذا تو بہ کرنا اور آئندہ کیلئے ایسا کرنے سے بچنا لازم ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس حالت میں روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا حرام ہے “ (بهارِ شریعت، جلد 1، صفحه 380، مكتبة المدينه، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم 66 عاملات الهات Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.