Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پلاٹ بیچنے کی وجہ سے حج فرض ہوگیا، لیکن کیا نہیں تو حکم؟

Fatwa no.
1525-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے 2012 میں 7لاکھ کا پلاٹ بیچا تھا پھر 2016 میں ان پیسوں سے ایک اور پلاٹ لے کر گھر بنالیا تو کیا اس پر اس وقت حج فرض ہو گیا تھا؟ نیز اب اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو کیا اب بھی اس پر حج فرض ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر پلاٹ سے ملنی والی رقم حج کے لئے آنے جانے ، نیز وہاں کھانے پینے اور رہائش کے ضروری اخراجات اور اتنی مدت کے لئے اس کے اہل و عیال کے نان نفقہ کے اخراجات کو کافی تھی اور رقم ملنے کے وقت حج کے فارم بھی سرکاری یا پرائیوٹ سطح پر جارہے تھے تو حج فرض ہو چکا تھا، باجو د قدرت حج نہیں کیا تو گنہگار ہوئے ، لہذا اپنے اس عمل سے تو بہ کریں نیز اب مال نہ ہونے کی وجہ سے فرض ہو جانے والا حج ساقط نہیں ہو گا بلکہ جب بھی استطاعت آئے تو حج پر جانا ہو گا، اگر چہ قرض لیکر ہو، اگر حج نہ کیا حتی کہ بہت زیادہ ضعیف یا بیمار ہو گیا کہ اب حج پر خود نہیں جاسکتا، اور آئندہ بھی جانے کی کوئی صورت ممکن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.