Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض کے دنوں میں سورہ قدر بطورِ وظیفہ پڑھنا
- Fatwa no.
- 1524-Web
Question
حیض کے ایام میں سورہ قدر پڑھ سکتے ہیں وظیفہ کے طور پر ؟
Answer (beginning)
مخصوص ایام میں وظیفہ کے طور پر بھی سورہ قدر نہیں پڑھ سکتی، کہ حائضہ عورت کو قرآن پاک پڑھنا اگر چہ وظیفہ کے طور پر ہو، جائز نہیں ہے ، نیز سورہ قدر دعا وشاء کی نیت سے بھی مخصوص ایام میں نہیں پڑھ سکتی ، کہ اس میں دعاو ثناء کا معنی انہیں پایا جاتا۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: " جن آیات میں بند و دعا و ثنا کی نیت نہیں کر سکتا بحال جنابت و حیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا مثلاً تفریق اعدا کے لئے سورہ ثبت نہ کہ سورہ کو شر کہ بوجہ ضمائر متکلم انا اعطینا قرآنیت کے لئے متعین ہے، عمل میں تین نیتیں ہوتی ہیں یا تو دعا جیسے حزب البحر، حرز یمانی یا اللہ عز و جل…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.