Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کے سامنے سرگوشی کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1521-Web
Question
(دعوت اسلامی) دو سے زیادہ لوگ ایک کمرے میں موجود ہوں تو کیا کسی سے کان میں بات کرنا گناہ ہو تا ہے؟
Answer (beginning)
کسی کے سامنے سرگوشی سے بات کرنا اسے تشویش میں ڈال دیتا اور رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے ، لہذا اس سے بچنا چاہئے، احادیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر سامنے والے کو سرگوشی سے کسی قسم کا شبہ اور پریشانی نہ ہو تو اب سر گوشی کرنا بلا کراہت جائز ہے۔ مراۃ المناجیح میں ہے : ” اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہو گا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جاوے گی میرے خلاف مشورہ کر رہے ہیں، جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ مخطرہ نہ ہو گا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.