Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نصاب پر سال پورا ہونے سے کچھ ماہ پہلے چار تولہ سونا خریدا اس کی زکوۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1520-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں پہلے سے صاحب نصاب ہوں اور ہر سال شعبان میں زکوۃ نکالتا ہوں، تقریباً پانچ ماہ پہلے میں نے چار تولے سونا بھی خریدا تھا، معلوم یہ کرنا ہے کہ ابھی شعبان میں جب میں زکوۃ ادا کروں گا تو کیا اس سونے کی زکوۃ بھی نکالنی ہو گی یا اس کی زکوۃ اگلے سال نکلے گی ؟
Answer (beginning)
جبکہ آپ پہلے سے صاحب نصاب ہیں تو یہ سونا بھی آپ کے دیگر اموال زکوۃ میں شامل ہو جائے گا اور نصاب پر سال مکمل ہونے پر اس سونے کی بھی زکوۃ دینی ہو گی، خاص اس سونے پر الگ سے سال گزر ناشرط نہیں۔ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں فتاوی اہلسنت میں ہے: "اگر سونا یا چاندی یا ان کی قیمت کے برابر پہلے سے نصاب کی مقدار موجود تھی اور بعد میں یہ سونالیا، تو اگر پہلے والے سونے یا چاندی یا ان کی قیمت پر سال گزر گیا ہے تو اس سابقہ پر سال گزرنا اس نئے سونے پر بھی سال گزرنا قرار پائے گا اور گل پر ز کو ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.