Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شاپنگ مال کرائے پر لے کر، اس کی مرمت کروا کر آگے زیادہ کرائے پر دینا
- Fatwa no.
- 1550-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے ایک پر انا شاپنگ مال ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کرائے پہ لیا اور اس کی مرمت کروا کر اس میں موجود دس دکانوں کو آگے دس افراد کوفی دکان 20 ہزار ماہانہ کرائے پر دے دیا۔ کیا یہ اجارہ جائز ہے ؟ اور اس میں حاصل ہونے والی زائد رقم جو تقریباً پچاس ہزار ہے، زید کے لیے حلال ہے ؟
Answer (beginning)
کرائے پر لی ہوئی چیز آگے کرائے پر دے سکتے ہیں، جبکہ اتنے ہی کرائے پر دی جائے جتنے پر لی تھی، یا کم کرائے پر دی جائے اور اگر زیادہ کرائے پر دینا چا ہیں تو اس وقت دے سکتے ہیں جب ان تین صورتوں میں سے کوئی صورت پائی جائے : (1) اس دکان میں کچھ مرمت وغیرہ کا کام کروا دے۔ (2) جس جنس کے کرائے پر دکان لی ہے آگے اس کے خلاف کسی اور جنس کے کرائے پر دیں۔ (3) دکان کے ساتھ کوئی اور چیز بھی کرائے پر دے دیں اور دونوں کا کرایہ ایک ہی مقرر کریں۔ چونکہ پوچھی گئی صورت میں زید نے دکانوں کی مرمت کروا کر پھر آگے زائد کرائے پر دی ہیں، لہذا اس کا ایسا کرنا، جائز ہوا۔ آمدنی بھی حلال ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.