Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رمضان میں زکوۃ نکالنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1548-Web
Question
(دعوت اسلامی) میں نے کافی سالوں پہلے ماہ رمضان میں مسئلہ پوچھا تھا تب مجھ پہ زکوۃ بنتی تھی۔ تب سے ہی میں ماہ رمضان میں ہی زکوۃ نکالتی ہوں ایسا کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
زکوۃ کا تعلق رمضان شریف یا رجب المرجب وغیرہ سے نہیں بلکہ زکوۃ کی ادائیگی نصاب پر سال پورا ہونے پر فرض ہوتی ہے یعنی جب آپ صاحب نصاب ہوئے اور پھر آپ کے نصاب پر سال گزرا تو اب زکوۃ فرض ہو گی چاہے وہ کوئی سا بھی مہینا ہو ، سال پورا ہونے کے بعد بلا عذر شرعی زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں گناہ ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص شوال المکرم کی پانچ تاریخ کو صبح دس بجے صاحب نصاب ہوا اور پھر اگلے سال اسی مہینے ، اسی تاریخ پر صاحب نصاب ہے تو اس پر زکوۃ فرض ہے۔ لہذا اب اسی وقت زکوۃ نکالنا فرض ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہو گا۔ اسی طرح اگر صاحب نصاب رجب میں ہو ایار مضان میں تو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.