Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرائے پر دیا ہوا مکان، ڈیڑھ تولہ سونا اور کچھ کیش رقم، ان پر زکوۃ کا حکم

Fatwa no.
1547-Web

Question

میرا ایک مکان ہے جس کا مجھے کرایہ ملتا ہے، تقریبا ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور کچھ نقد رقم ہے۔ رقم اور سونے پر تو ز کوۃ ہو گی، لیکن کیا مکان پر بھی زکو ہو گی جبکہ وہ بیچنے کی غرض سے نہیں لیا گیا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت کے مطابق اس مکان پر زکوۃ واجب نہیں ہے، البتہ اس کے کرائے کی رقم خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ رہی ہو اور ان اموال پر سال گزر جائے اور دیگر شر اندا ز کوۃ بھی پائی جائیں، تو کرائے کی رقم پر زکوۃ فرض ہو گی۔ اور اگر کرایہ خرچ ہو جاتا ہے تو اس پر بھی زکوۃ نہیں ہو گی۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”ولو اشترى قدوراً من صفر يمسكها ويؤاجرهالاتجب فيهاالزكاة كمالا تجب فی بیوت الغلة “ یعنی اگر پیتل کی دیگ خریدی اسے رکھے گا اور کرائے پر دے گا (تو) اس میں زکوۃ واجب نہیں جیسا کہ کرائے کے گھروں میں واجب نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.