Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلبا کے لئے دی گئی زکوۃ مہتمم کا خود استعمال کر لینے کا حکم
- Fatwa no.
- 1544-Web
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم زکوۃ کی رقم مدرسے میں طلبا کے لیے دیتے ہیں، اس کے لیے جو مدرسے کا انچارج یا مہتمم ہے، ہم اسے اپنا وکیل بنا کر زکوۃ، ان کے ہاتھ میں دیتے ہیں، اب اگر وہ صاحب آگے پیسے طلبا کو نہیں دیتے، بلکہ خود استعمال کر لیتے ہیں، تو کیا ہماری طرف سے زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
وکیل زکوۃ کا مذکور در قم خود رکھ لینا، نا جائز و حرام ہے ، اس پر لازم ہے کہ جن کیلئے زکوۃ دہندہ گان نے زکوۃ دی ہے، انہیں زکوۃ دے، اگر خود استعمال کرے گا، تو جنہوں نے زکوۃ دی تھی، ان کی زکوۃ ادانہ ہو گی بلکہ ایسی صورت میں زکوۃ دہندہ گان کو اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ تاوان دینا بھی لازم ہے۔ عموماً مدارس میں کسی خاص طالب علم کیلئے زکوۃ نہیں لی جاتی، بلکہ تمام طلبہ یا مدرسہ کے تمام اخراجات کیلئے زکوۃ لی جاتی ہے اور پھر اس کا شرعی طریقہ کار کے مطابق شرعی حیلہ کر کے اس سے تمام اخراجات ادا کئے جاتے ہیں، ایسا کرنا رست ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.