Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسوڑھوں سے خون نکل کر حلق میں اتر گیا، ذائقہ بھی محسوس ہوا، تو روزہ کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1542-Web
Question
روزے کی حالت میں مسوڑھوں سے خون نکلے اور خون تھوک پر غالب ہو ، ذائقہ بھی حلق میں محسوس ہو ، تو روزے کا کیا حکم ہے جبکہ روزہ دار کو مسوڑھوں سے خون آنے کی بیماری ہو ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب خون تھوک پر غالب ہو اور حلق میں اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس کی پہچان کا ایک طریقہ یہ ہے کہ حلق میں خون کا ذائقہ محسوس ہو۔ روزہ ٹوٹنے کی صورت میں اس کی قضا کر ناؤ مہ پر لازم ہو گا۔ کسی کو اگر یہ بیماری ہے، تو کسی ڈاکٹر یا حکیم وغیرہ سے رابطہ کرے تاکہ خون روکنے کی کوئی تدبیر کی جاسکے اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ناپاک خون اگر منہ میں آہی گیا ہے، تو روزہ ہو یا نہ ہو، بہر صورت ناپاک خون کو لگانا حرام ہے۔ اور اس خون کا بار بار پیٹ میں جانا بھی کسی طبی نقصان کا باعث ہو سکتا ہے، لہذا افورا کسی طبیب سے رابطہ کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.