Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صابن شیمپو وغیرہا میں ناپاک چیز ملنے کا گمان ہو، تو ان کے استعمال کا حکم
- Fatwa no.
- 1536-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خارجی استعمال کی اشیاء جیسے صابن شیمپو و غیر ہا، اگر ان میں ناپاک چیزوں کے ملے ہونے کا گمان ہو ، تو ان کے استعمال کا حکم کیا ہے ؟ ہو گا۔
Answer (beginning)
جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک چیز ملی ہوئی ہے ، تو محض شبہ کی بناء پر اس کا استعمال ناجائز نہ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی نا پاک یا حرام چیز ملی ہے، محض شبہ پر نجس و ناجائز نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ہاں اگر کچھ شبہ ڈالنے والی خبر سن کر احتیاط کرے تو بہتر (ہے)۔۔۔۔ مگر نا جائز و ممنوع نہیں کہہ سکتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.