Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا فجر کے وقت کتے کا بھونکنا منحوس ہے ؟

Fatwa no.
1535-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر گھر میں حفاظت کے لئے کتار کھا ہو ، جب فجر کی اذان ہوتی ہے، کتا بھونکتا ہے، کیا اس کا فجر کے وقت بھونکنا منحوس ہے؟

Answer (beginning)

فجر کے وقت کتے کے بھونکنے کو منحوس سمجھنا درست نہیں ہے یہ بد شگونی ہے اور بدشگونی اسلام میں جائز نہیں۔ خیال رہے کہ شرعا صرف دو صورتوں میں کتے پالنے کی اجازت دی گئی ہے: ایک گھر یا جانوروں یا کھیتی کی حفاظت کی سچی ضرورت ہو کہ کتار کھنا ہی پڑے گا، تو ان کی حفاظت کے لیے۔ اور دوسرا: شکار کے لیے جبکہ وہ شکار دوا یا غذا وغیر ہ صحیح نفع بخش کام کے لیے ہو، محض تفریح کے لیے نہ ہو۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر واقعۂ حفاظت کی خاطر ہی کنار کھا ہے تو وہی شرعاً اجازت ہو گی ، بصورت دیگر رکھنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.